ہم اپنے اوقات کو کارآمد کیسے بنائیں؟

ترجمہ: علاءالدین عین الحق مکی (کویت)
 abusafia1996@yahoo.com

وقت کو کارآمد اور مفید سے مفید تر بنانے کے لیے بہت سارے میدان ہیں، تاہم مسلمان کو ایسے میدان کا انتخاب کرناچاہیے جو دینی اعتبار سے زیادہ مناسب ہو۔ ذیل میں ہم ان کی جانب اشارہ کررہے ہیں:
قرآن کریم کو سیکھنا اور اس کا حفظ کرنا: اپنے وقت کے صحیح استعمال کے لیے قرآن کریم کوسیکھنا اور اس کو حفظ کرنا سب سے بہتر عمل ہے۔ نبی انے قرآن کریم کوسیکھنے سکھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور سکھائے“ ۔ (بخاری)
 طلب علم: اسلاف کرام طلب علم میں اپنے اوقات کو کارآمد بنانے کے بہت زیادہ حریص ہوا کرتے تھے، وہ جانتے تھے کہ انہیں کھانے پینے سے زیادہ علم کے حصول کی ضرورت ہے۔طلب علم یا علم کے حصول میں اپنے اوقات کو مفید اور کارآمد بنانے کی مختلف شکلیں ہیں: جن میں اہم دروس اورلیکچرزمیں شرکت کرنا، مفید کیسیٹس سننا، فائدہ مند   کتابوں کا مطالعہ کرنا اور انہیں خرید کر اپنے پاس جمع کرنا ہیں۔
 ذکرالٰہی:ذکر کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں جو تمام اوقات کوشامل ہو، ذکرایسا ہرا بھرا ، ثمر آوراور آسان تر عمل ہے جس میں ایک مسلمان کو نہ زیادہ مشقت اورتھکن سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور نہ اس کے لیے مال ودولت درکار ہے۔ آنحضرت ا نے اپنے ایک صحابی کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:” آپ کی زبان برابر اللہ کے ذکر سے تر رہے“۔(احمد) اس سے بڑھ کر اچھی بات کونسی ہوسکتی ہے کہ مسلمان کا دل اپنے رب کی یاد سے ہمہ وقت معمور رہے، اگر بولے تواس کی بڑائی اور اگر حرکت کرے تو اسی کے حکم کے مطابق۔
 نوافل کی کثرت: یہ عمر میں ملنے والی فرصتوں کواللہ کی اطاعت میں استعمال کرنے کا اہم میدان اور تزکیہ¿ نفس کا اہم محرک ہے، نیزکثرت نوافل فرائض میں واقع ہونے والے نقص کی بھرپائی کے لیے سنہرا موقع ہے بلکہ ان سب سے بڑھ کربکثرت نوافل کی ادائیگی اللہ رب العزت کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے : ولایزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ (بخاری)ترجمہ: ”اور بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا جاتا ہے یہاںتک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔“
 دعوت الی اللہ: یعنی نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا: دعوت الی اللہ رسولوں، انبیاءاورپیغمبروں کا طریقہ ہے، ارشاد ربانی ہے:
 ترجمہ: ” تم ان سے صاف کہہ دو کہ میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔“ ( یوسف 108) اپنے وقت کو دعوت الی اللہ میں استعمال کرکے مفید بنانے کی طلب پیدا کیجئے، چاہے لیکچرز کے ذریعے ہو یا کتابچوں اورکیسیٹس کی تقسیم کے ذریعے یا رشتہ دار، دوست واحباب اور پڑوسیوں کی دعوت کے ذریعے۔
رشتے داروں سے ملاقات اور صلہ رحمی: یہ عمل جنت میں داخلے، رحمت الٰہی کے حصول، عمر میں اضافے اور رزق میں کشادگی کا ذریعہ ہے، آنحضرت انے ارشاد فرمایا: ”جو یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے،اور اس کی عمر میں اضافہ کیا جائے تواس کو چاہیے کہ اپنے رشتے دار کے ساتھ حسن سلوک کرے۔“(بخاری)
 روزانہ کے خالی اوقات کا صحیح استعمال: جیسے نمازوں کے بعد کے اوقات، اذان اور اقامت کے درمیان ملنے والا وقت، تہجد کا وقت اور فجر کے بعد اشراق تک کا وقت یہ وہ اوقات ہیں جو عظیم عبادتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔لہٰذا بندہ¿ مومن ان اوقات میں بے پناہ اجروثواب سے مالامال ہوسکتا ہے۔
 فائدہ مند چیزوں کا سیکھنا:فرصت کے اوقات میں اپنے یا مسلمان بھائیوں کے فائدے کے لیے کمپیوٹر، زبانیں، ٹائیپنگ، بجلی کا کام وغیرہ سیکھنا۔
 خیر کے کام ان کے علاوہ بھی بیشمار ہیں، جن کے ذریعے آپ اپنے مطلوبہ بنیادی مقاصد کے تئیں اپنے اوقات کو کارآمد بناسکتے ہیں۔

وقت کو برباد کرنے والی بلائیں

مسلمان کے وقت کو ضائع کرنے والی بہت ساری بلائیں ہیں،جن کاوہ بسااوقات زندگی بھریرغمال بنارہتا ہے ،ان میں سے چندا ہم یہاں بیان کررہے ہیں:
غفلت:یہ ایسا مرض ہے جس سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہے،اوران کی اکثریت کو اس کا احساس بھی نہیں ہے۔قرآن کریم نے بڑی سختی کے ساتھ غفلت سے خبردار کیا ہے بلکہ غافلوں کو جہنم کاایندھن قرار دیاہے:ارشاد الہی ہے: ترجمہ:” اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیںبلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے، یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔“(سورئہ اعراف179)
 ٹال مٹول:ٹال مٹول کرنا، آج کا کام کل پرڈالنا وقت اور عمر کو برباد کرنے والی بلا ہے، افسوس ہے کہ لفظ ’عنقریب‘ یا ’کچھ ہی دیر بعد ‘بہت سے مسلمانوں کا شعاراور عادت بن گیا ہے۔حسن بصری  کہتے ہیں:”ٹال مٹول یا آج کا کام کل پرڈالنے سے بچو، کیونکہ تو آج کے لیے ہے اور کل کا کوئی بھروسہ نہیں“۔
لہٰذا میرے مسلمان بھائی! ٹال مٹول سے بچیں، چونکہ کل تک زندہ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں، اوراگرکل کی زندگی کی ضمانت مل بھی جائے تو،اچانک بیماری، یا کوئی رکاوٹ، یا کوئی مصیبت سے تو راہ فرار نہیں۔ یاد رکھئے کہ ہر دن کا ایک کام ہے،اور ہر وقت کے تئیں چند ذمہ داریاں ہوتی ہیں، لہٰذا مسلمان کی زندگی میں فرصت کا کوئی وقت نہیں ہے،جبکہ بندگی سے متعلق اعمال میں ٹال مٹول کرنا ان کو چھوڑنے کا عادی بناتا ہے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*