یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے!

محمد آصف ریاض
 asif343@gmail.com

اردو میڈیا اپنی اشاعت کے لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ لیکن معیار کے لحاظ سے یہ اپنا کوئی مقام نہیں بنا سکاہے ۔
اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی وجہ نام نہاد اردو رائٹرس ہیں۔اردو رائٹر س عام طور پر وہ بات لکھتے ہیں جو بات قوم سننا چاہتی ہے۔ حالانکہ کسی رائٹر کا یہ کام نہیں کہ وہ عوامی احساسات و جذبات کا ترجمان بن جائے اور جس طرح عام لوگ سوچتے ہیں وہ انھیں کی طرح سوچنا شروع کر دے۔
یہ کام تو نیتا کا ہے! نیتا یہ دیکھتا ہے کہ کسی معاملہ پر قوم کس طرح سوچ رہی ہے،وہ قوم کی سوچ کو معلوم کرنے کے بعد اسی سوچ کی ترجمانی شروع کر دیتا ہے ،جس کی وجہ سے اس کی سیاسی دکانداری چمکنے لگتی ہے۔وہ دیکھتے ہی دیکھتے عوامی لیڈر بن جاتا ہے۔کسی رائٹر کا کام کسی نیتا کے کام سے بالکل الگ ہوتا ہے۔کوئی نیتا قوم کے جذبات کو ایڈریس کرتا ہے اور رائٹر اس کے شعور کو ایڈریس کرتا ہے۔ رائٹر کا کام مصلح کا کام ہوتا ہے ۔ اسے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کسی معاملہ میں چوک کہاں ہوگئی وہ اس چوک کا تجزیہ کر کے بتا تا ہے کہ غلطی کہاں ہو گئی۔کوئی حقیقی رائٹر اپنا اور اپنی قوم کا گہرا محاسبہ کرتا ہے۔وہ قوم کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلا تا ہے ۔وہ قوم کو وہ راستہ دکھا تا ہے جس پر چل کر قوم اپنی تقدیر بدل سکتی ہے۔نیتا یہ کرتا ہے کہ وہ قوم کو الجھا دیتا ہے۔وہ کنفیوزن پیدا کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ قوم تو صحیح راہ پر ہے اس کے ساتھ سازش ہو رہی ہے۔وہ سازش کی تھیوری کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے کہ قوم نا امید ہوجاتی ہے اور یہ سوچنے لگتی ہے کہ اس کی بیماری کا علاج شاید اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
رائٹر اپنی قوم کے اندر’ کرنے ‘کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور نیتا ’ شکایت‘ کی نفسیات۔ رائٹر ’ ا مید ‘پیدا کرتا ہے اور نیتا ’ نا امیدی‘
افسوسناک بات یہ ہے کہ اردو اخبارات و رسائل میں لکھنے والے زیادہ تر لوگ نیتا ﺅں کی بولی بولنے لگے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں عام طور پر وہی بات لکھتے ہیں جو کوئی نیتا تقریری انداز میں کہیں کہتا ہے ۔گویا کہ اردو کے رائٹرس نیتا کی تقریر کو اپنی تحریر میں بدل دیتے ہیں۔اس کا انھیں فائدہ بھی ملتا ہے۔ جس طرح کوئی نیتا اپنی جذباتی تقریر کے ذریعہ راتوں رات قوم کا ہیرو بن جا تا ہے، اسی طرح کوئی ’رائٹر نما نیتا‘ اپنی قوم کا ہیرو بن جا تاہے۔ وہ جلسے اور سیمیناروں میں بلا یا جا تا ہے ،نیتا ﺅں کے ساتھ بیٹھا یا جا تا ہے اور پھر اس سے جوشیلی تقریریں سنی جاتی ہیں۔کسی قوم میں نیتا اور رائٹر کا جو فرق ہے وہ فرق ہمارے یہاں (اردو میڈیامیں)، باقی نہیں رہا۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔یہیں سے ہمارا پورا کھیل خراب ہوا ہے ۔ ترقی یافتہ قومیں یہ کرتی ہیں کہ جب ان کا کوئی نیتا تقریر کر کے بیٹھتا ہے توان کے رائٹر اس کا تجزیہ پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اردو کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے رائٹر س نیتا کی کہی ہوئی بات کو ہی دوہرانا شروع کر دیتے ہیں۔
آپ کوئی بھی اردو اخبار و رسائل کو اٹھا کر دیکھیں وہاں آپ کو صرف پروبلم نظر آئے گا سلوشن نظر نہیں آئے گا۔ نیتا پروبلم پیدا کرتا ہے اور رائٹر سلوشن ۔لیکن جس قوم کے رائٹرس بھی نیتا کا کام شروع کر دیں اس قوم میں صرف پروبلم ہی نظر آئے گا وہاں آپ سلوشن کی توقع نہیں کر سکتے۔
بلا شبہ مین اسٹریم میڈیا مسلمانوں کے ایشوز کواٹھا نے میں ناکام رہا ہے ۔مین اسٹریم میڈیا میں مسلمانوں کے مسائل ایمانداری کے ساتھ نہیں اٹھائے گئے،جس کی وجہ سے اردو اخباروں نے اپنے مسائل اٹھانے کی ذمہ داری خود اپنے کاندھے پر لے لی ، لیکن اس کام میں جس اعتدال کی ضرورت تھی ہم اس اعتدال پر قائم نہیں رہ سکے، نتیجہ کے طور پر اردو میڈیا مسائل کا پٹارہ بن گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے لکھنے والے ایماندارانہ تجزیہ پیش کریں ۔ وہ اپنے اندر تحقیقی صلاحیت کو بڑھا ئیں۔ وہ اردو صحافت میں صرف اس لیے نہ کود پڑیں کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کوئی دوسرا کام نہیں ہوتا۔یہ بھی ایک سچائی ہے کہ بہت سارے لوگ اردو میڈیا میں اس وقت آتے ہیں جب کہ وہ کسی کام کے لائق نہیں رہتے ،یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد!!!

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*