میں بیکار بیٹھنا نہیں جانتا

محمد آصف رياض

خوشونت سنگھ ایک بڑے رائٹر ہیں۔انھوں نے اپنی پوری زندگی لکھنے پڑھنے میں لگائی ہے۔وہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالم نویس تسلیم کئے جاتے ہیں۔اب وہ زندگی کے آخری ایام میں ہیں۔ان کی عمر 97سال ہوچکی ہے لیکن اس عمر میں بھی وہ ہر ہفتہ دو مضامین لکھتے رہے۔پچھلے کچھ دنوں سے انھوں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے اور اب وہ موت کا انتظارکر رہے ہیں۔ان کا یہ قول بہت مشہور ہوا۔ ”میں نہیں جانتا کہ بے کار کس طرح بیٹھا جا تا ہے“۔(I do’nt know how to sit and do nothing) یہی کسی فاتح کی اسپرٹ ہوتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کی کامیابی کا راز یہی ہے۔دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت سرخروئی کے مقام پر فائز ہوتی ہے جب کہ اس کے اندر اس طرح کے افراد پائے جاتے ہوں جو بیٹھنا نہیں جانتے ،جواپنی زندگی کے آخری ایام بھی اپنے مشن پر لگادیں۔
جو اپنے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کر نے کے لئے اپنی ہڈیوں کو گلا دیں۔ اس عظیم اسپرٹ کے بغیر کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا جا سکتا ،نہ سائنس کے میدان میں اور نہ دعوت کے میدان میں۔

علامہ ابن تیمیہ (( 1263–1328 ایک عظیم اسلامی اسکالر اور مفکر گزرے ہیں۔ انھیں کئی کئی بار جیل میں ڈالا گیا ۔آپ نے جیل کے اندر کئی کتابیں لکھیں جو بہت مشہور ہوئیں۔آپ کے’ طلب علم‘ کا حال یہ تھا کہ آپ دن رات پڑھتے رہتے تھے اور جب کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تو بہت سوچتے تھے اور جب اس سے بھی کام نہیں چلتا تو جنگل کی طرف نکل جاتے اور دعاکرتے تھے ”یامعلم ابراہیم علمنی“ اے ابراہیم کو علم سکھا نے والے مجھے بھی علم سکھا۔
ابن تیمیہ کی تقریباً ایک ہزار کتابیں ہیںجو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔انھیں بجا طور پر شیخ الاسلام کہا جا تاہے۔معروف اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان نے انھیں اپنے وقت کا مجدد قرار دیا ہے۔
 مولانا وحید الدین خان January 1, 1925)) بہت بوڑھے ہوچکے ہیں ،لیکن آج بھی وہ نہایت پابندی کے ساتھ ہر سنڈے کو اپنے اسپریچوئل کلاس سے گھنٹوں خطاب کرتے ہیں ۔ وہ اس عمر میں بھی پورا ’ الرسالہ‘ خود سے لکھتے ہیں۔ تذکیر القران کے نام سے ان کی تفسیر بھی شائع ہوچکی ہے، اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں کتابیں ہیں۔دعوہ ورک میں ان کے کنٹریبوشن کو نظر انداز کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ میں نے کئی بار اپنی میگزین کے لئے اردو اور انگریزی میں ان سے مضامین لکھوائے ہیں ،انھوں نے ہمیشہ وقت سے پہلے اپنے مضامین ارسال کئے ۔ان کا ’بڑھاپا‘ ان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
اسی طرح کی ایک مثال مفسرقرآن مولانا فاروق خان صاحب کی بھی ہے۔آپ بھی کافی بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن علم کا شوق آج بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ۔ طلب علم نے آپ کو اس طرح سرگرم رکھا ہے کہ عملی طور پر یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ میں بیکار بیٹھنا نہیں جانتا:I do’nt know how to sit and do nathing
 سوربھ قرآن کے نام سے ہندی میں آپ کی تفسیر شائع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ حدیث پر بھی آپ نے بہت کام کیا ہے ۔ فی الحال وہ’ حقیقت نبوت ‘ نامی کتاب پر کام کر رہے ہیں۔بلا شبہ کسی قوم کے لئے اس قسم کے لوگ غنیمت ہیں ، جو نہیں جانتے کہ کس طرح بیکار بیٹھا جا تا ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر کوئی قوم ناز کر سکتی ہے ،اور یہی وہ لوگ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے باعث ترغیب ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*