واقعہ افک

 حافظ صلاح الدین یوسف

 ترجمہ:”جولوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں ،یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ہے۔ تم اسے اپنے لیے بُرا نہ سمجھو‘بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ہاںان میں سے ہرایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایاہے اوران میںسے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لیے عذاب بھی بہت بڑا ہے ۔ اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے نیک گمانی کیوںنہ کی اورکیوںنہ کہہ دیا کہ یہ توکھلم کھلا صریح بہتان ہے ۔“(سورة النور 11۰12)
تشریح :پیش نظر آیات میں اشارہ واقعہ افک کی طرف ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ رضى الله عنها کے دامنِ عفت کو داغدار کرناچاہاتھا لیکن اللہ تعالی نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ رضى الله عنها کی براءت نازل فرماکر ان کی عفت اورپاک دامنی کو واضح تر کردیا ۔ مختصراً واقعہ یوں ہے کہ حکمِ حجاب کے بعد غزوہ¿ بنی المصطلق (مریسیع ) سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام نے مدینہ کے قریب ایک جگہ قیام فرمایا: صبح کو جب وہاں سے روانہ ہوئے توحضرت عائشہ رضى الله عنها کا ہودج بھی ‘ جو خالی تھا ‘ اہل قافلہ نے یہ سمجھ کر اونٹ پر رکھ دیا کہ ام المو منین رضى الله عنها اس کے اندر ہی ہوںگی اوروہاں سے روانہ ہوگئے۔ درآں حالیکہ حضرت عائشہ رضى الله عنها اپنے ہارکی تلاش میں باہر گئی ہوئی تھیں،جب واپس آئیں تودیکھا کہ قافلہ چلا گیا، تویہ سوچ کر وہیں لیٹ رہیں کہ جب ان کو میری غیرموجودگی کا علم ہوگا توتلاش کے لیے واپس آئیں گے ۔تھوڑی دیر کے بعد صفوان بن معطل سلمی رضى الله عنها آگئے ، جن کی ذمہ داری یہی تھی کہ قافلے کی رہ جانے والی چیزیں سنبھال لیں،انہوںنے حضرت عائشہ رضى الله عنها کو حکم حجاب سے پہلے دیکھا ہوا تھا ، انہیں دیکھتے ہی انا للہ الخ پڑھا اورسمجھ گئے کہ قافلہ غلطی سے یا بے علمی میں حضرت ام المو منین رضى الله عنهاکو یہیں چھوڑ کرآگے چلا گیا ہے ۔چنانچہ انہوںنے انہیں اپنے اونٹ پربٹھایا اورخودنکیل تھامے پیدل چلتے قافلے کوجاملے۔منافقین نے جب حضرت عائشہ رضى الله عنها کو اس طرح بعد میں اکیلے حضرت صفوان رضى الله عنه کے ساتھ آتے دیکھا تواس موقع کو بہت غنیمت جانااوررئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے کہا کہ یہ تنہائی اورعلیحدگی بے سبب نہیں اوریوں انہوں نے حضرت عائشہ رضى الله عنها  کو حضرت صفوان رضى الله عنه کے ساتھ مطعون کردیا ‘ درآںحالیکہ دونوں ان باتوںسے یکسر بے خبر تھے ۔بعض مخلص مسلمان بھی منافقین کے اس پروپگنڈے کا شکار ہوگئے ‘ مثلاً حضرت حسان ، مسطح بن اثاثہ اورحمنہ بنت جحش رضی اللہ عنھم (اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح بخاری میں موجود ہے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے ایک مہینے تک‘ جب تک اللہ تعالی کی طرف سے براءت نازل نہیں ہوئی‘ سخت پریشان رہے اورحضرت عائشہ رضى الله عنها لاعلمی میں اپنی جگہ بے قرا رومضطرب رہیں۔ان آیات میں اللہ تعالی نے اسی واقعے کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان فرمایاہے ۔
اس کے بعدان پہلووں کو نمایاں کیا جارہا ہے جو اس واقعے میں مضمر ہیں۔ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل ایمان ایک جان کی طرح ہیں ‘ جب حضرت عائشہ  پر اتہام طرازی کی گئی تو تم نے اپنے پر قیاس کرتے ہوئے فوراً اس کی تردید کیوںنہ کی اوراسے بہتان صریح کیوںقرار نہیں دیا ؟ ….اسی لیے امام مالک  فرماتے ہیں کہ جو نام نہاد مسلمان حضرت عائشہ پر بے حیائی کا الزام عائد کرے وہ کافر ہے کیوںکہ وہ اللہ کی اورقرآن کی تکذیب کرتا ہے ۔

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*