بلند ہمتی

صفات عالم محمدزبیرتیمی 
 

عن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ان اللہ تعالی یحب معالی الامور واشرافھا ویکرہ سفسافھا (صحیح الجامع للالبانی ،حدیث رقم 1890)

ترجمہ: حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی بلند اورمعززکاموں کو پسند فرماتا ہے اورگھٹیا کاموں کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
تشریح : ایک مومن بلندہمت ہوتا ہے،وہ پست ہمتی سے کوسوں دور رہتا ہے ،اس کی نظر اعلی اوراشرف کاموں پر ہوتی ہے،وہ گھٹیاکاموں کے پیچھے نہیں لگتا، وہ بیکار اور لایعنی کاموں میں اپنے اوقات ضائع نہیںکرتا، وہ کم پر راضی نہیں ہوتا جبکہ زیادہ کا حصول ممکن ہو، ہمارے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اولوالعزمی اوربلندہمتی کا بہتریں نمونہ ہے جنہوں نے کفروشرک کی شب تاریک میں تنہا دعوت کا آغاز کیا تھا ،ہرطرف سے مخالفت ہوئی،ہرطرح سے مشق ستم بنایاگیا لیکن آپ کی ہمت مزید دوبالا ہوتی گئی یہاں تک کہ جان جان آفریں کو سپردکردی ۔
ایک انسان کا حقیقی امتیاز اس میں نہیں ہے کہ اس نے کس قدر عمریںپائیں بلکہ حقیقی امتیاز اس میں ہے کہ اس نے اس مدت میںدین کے لیے کتنا کام کیا اورکس حدتک دین کی خدمت انجام دی۔بندہ مومن کامطمح نظر دنیاکے بجائے آخرت ہوتاہے،اس لیے وہ دنیا کے معاملے میں کم پرقناعت کرسکتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں اس کی نگاہ ہمیشہ بلند ہوتی ہے،یہی وہ نکتہ تھا جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا:” جب تم اللہ پاک سے جنت کاسوال کروتو جنت الفردوس مانگو“….چنانچہ آپ کے عالی ہمت اصحاب نے اس نکتہ کو بخوبی اپنی عملی زندگی میں جگہ دی۔
٭ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ محض ڈھائی سال تک حکومت کرتے ہیں لیکن اس مختصر مدت میں فتنہ ارتداد کی سرکوبی اورقرآن کریم کو یکجا کرکے دوبارہ امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیتے ہیں۔
٭ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ ساڑھے دس سال کی مدت ِخلافت میںشمال سے لے کر جنوب تک اورمشرق سے لے کر مغرب تک اسلام کا جھنڈا لہرا دیتے ہیں یہاں تک کہ وقت کی دو سپرپاور طاقتیں روم وایران اسلامی خلافت کے زیرنگیں ہوجاتی ہیں۔
٭ سعدبن معاذرضی اللہ عنہ جو 30سال کی عمر میں اسلام قبول کرتے ہیں اور36سال کی عمرمیں وفات پاجاتے ہیں ،محض چھ سال کی مدت میںانہوںنے آخر کونسی نیکی کرلی کہ ان کی موت پرعرش الہی لرزنے لگتا ہے۔
٭ عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے صرف ڈھائی سال تک حکومت کی لیکن اس مدت میں انہوں نے حکومت کے نظم ونسق کوایسا مثالی بنادیا کہ خلفائے راشدین کی یاد تازہ ہونے لگی ۔
جی ہاں! ایک مسلمان اپنی ذات میں ایک انجمن ہے ،اسے انسانوں کے لیے وجودمیں لایاگیا ہے ،اب اگروہ سستی کرنے لگ جائے اورکاہلی کا شکارہوجائے تو انسانیت کی رہبری کون کرے گا ؟ افسوس کہ آج ہماری نئی نسل پست ہمت اور کام چور بنتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے اعلی کردارکے حامل اورنمایاں کارکردگی انجام دینے والے افراد مسلم معاشرے میں کم ہوتے جارہے ہیں۔
آج ضرورت ہے کہ زیر نظر حدیث کے مطابق مسلم معاشرے کے افراد کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ زندگی کے ہرمیدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*